Google+ Followers

Friday, 1 November 2013

غالبِؔ مجنون (اڈیٹر کے نوٹ کے ساتھ)


زبان دراصل بولنے اور سننے کی چیز ہے، بولنا مقدم اور سننا موخر۔ لہٰذا ترسیل کا عمل بولنے سے شروع ہوکر سننے پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ بولنے والے کے منہ سے جو لفظ نکلتا ہے سننے والا اس کے ساتھ معانقہ کرتا ہے۔ تحریر اور چھاپے کی ایجاد کے بعد جب لکھنے اور پڑھنے تک بات پہنچی تو بولنے اور سننے والے کے لیے نہ تو ایک دوسرے کے سامنے رہنے کی ضرورت باقی رہی اور نہ اس بات کی کہ اس بولنے اور سننے دونوں کا کوئی ایک ہی وقت معین ہو۔ اس فرق کو آج کے میڈیا کے لائیو (Live) اور پہلے سے ریکارڈ کیے ہوئے (pre recorded) پروگرام کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ بولے ہوئے کا لکھا جانا اور سنے ہوئے کا پڑھا جانا سماج کے رسمی معاملات سے اوپر اٹھ کر جب ادب کی قلم رو میں چلا جاتا ہے تو اس کا معیار اور مزاج بھی بڑی حد تک بدل جاتا ہے۔ اس میں فن کارانہ نزاکتیں اور پیچیدگیاں، فلسفہ، حِسّیتیں، افکار اور تصورات غرض بہت کچھ آن ملتا ہے۔ یہاں پہنچ کر لفظ انتہائی وزنی اور جان دار ہوجاتا ہے۔ اِس کے اردگرد سے ایک تراشیدہ ہیرے کی طرح سے اس کی اپنی تعبیرات کی بے شمار شعاعیں پھوٹتی دکھائی دیتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آئیے اس سیاق میں ہم اپنی گفتگو کو ایک بار پھر نئے سرے سے اٹھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلاسیکی سنگیت کے معیّنہ سُروں کا مقصد دراصل آواز کا گن گان کرنا ہے۔ اور شاید یہ بتانا بھی کہ آواز کا جادو صرف ان مقررہ سروں ہی میں قید نہیں بلکہ فن کارانہ جدّت کے ساتھ ان سروں کو جھنجھوڑنے، الٹ پلٹ کردینے اور ٹکڑے ٹکڑے کردینے میں بھی ہے:
ساری محفل جس سے جھوم اٹّھی مجازؔ 
وہ تو آوازِ شکستِ ساز ہے
آئینہ جب تک ثابت ہو ایک شے کا ایک ہی عکس دکھاتا ہے اور جب چکنا چور ہوجائے تو اس ایک ہی شے کے لاتعداد عکس ہمارے سامنے بکھیر کر رکھ دیتا ہے ان میں سے جتنے بھی ہم چُن پائیں۔ غالبؔ کا یہ شعر بھی یاد کرتے چلیے:
فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
نالہ پابندِ نے نہیں
اور غالبؔ نے تو ایک بڑا کمال یہ کیا کہ آواز کو سُر کے کیسے میں سے نکال کر اپنی صریر خامہ کے وسیلے سے نوائے سروش کی کرسی پر لے جاکر بٹھادیا اور پھر اپنے فتراکِ خیال میں غیب کے مضامین شکار کرکرکے ڈالتے رہے۔ لفظ آوازوں کے امتزاج کا نام ہے چناں چہ ٹوٹنے اور بکھرنے یعنی انتشار کی جو سرشت آواز میں ہے وہی بڑے پیمانے پر جاکر لفظ کو ودیعت ہوئی۔ لیکن آواز کی یا لفظ کی اس سرشت کو بروئے کار لانا نہ تو لغت کے بس کی بات ہے اور نہ دفتری زبان یا قواعد کے پنڈتوں کی۔ اس کا سیدھا تعلق فن کاری سے ہے۔ اور اقلیم فن میں بھی پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون فن کار لفظ سے کتنا انتشار برپا کراسکا:
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
انسانوں کی طرح لفظ کی بھی نبض پھڑکتی ہے، اس کا بھی دل دھڑکتا ہے اور جب آپ اسے سن اور دیکھ بھی سکیں، سونگھ اور چکھ بھی سکیں اور اسے چھو بھی سکیں، اپنی اس چھٹی حس کے ساتھ جسے ہم یہاں Common Sense کہنے کے بجائے Pooper Sense کہنا پسند کریں گے، تو پھر لفظ کے ساتھ فن کاری کی سطح پر آپ کا تعلق قائم ہونا شروع ہوتا ہے۔ تب لفظ آپ کا دم ساز ہوجاتا ہے۔ ایک بڑی مصروفیت سے پہلے کی فرصت کا دمساز، جہاں وہ آپ کو اپنی پرتیں کھول کھول کر دکھاتا ہے اور پھر آپ چل نکلتے ہیں، لفظ کے ساتھ، تخلیقی عمل کے ایک لمبے سفر پر۔
چناں چہ لفظ شماری کے نقطۂ نظر سے اس بات کی اتنی اہمیت نہیں کہ ایک فن کار کے ہاں کتنے الفاظ استعمال ہوئے جتنی اس بات کی ہے کہ فن کار نے ایک ہی لفظ کو کس کس طرح برتا۔
اقلیمِ ادب میں لفظ لغت کی فرماں روائی قبول نہیں کرتا۔ وہ موقع اور محل کے اعتبار سے اپنے معنی خود متعین کرتا ہوا چلتا ہے۔ ادیب اور شاعر اور خاص طور پر شاعر اپنے ذہن میں فکر کے کئی جہان آباد کرتا ہے اور پھر وہ اپنے ہر جہانِ فکر کی ایک مخصوص لفظیات بھی متعین کرلیتا ہے۔ یہ متعینہ لفظیات ادب کی کسی معروف تلمیح کا علاقہ بھی ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ لفظیات اس پورے جہانِ معنی کا استعارہ بن جاتی ہے۔ فن کار کی تخلیقی کدوکاوش کا یہ سرا ہاتھ آجانے کے بعد پھر خارجی دنیا کو فن پارے کے اسلوبیاتی مطالعے اور نفسیاتی تنقید کے بھی بہت سے درباز نظر آنے لگتے ہیں۔
لسانیات کا ایک شعبہ ہے Semiotics جسے نشانات یعنیSigns اور Signals کی سائنس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ علم ہمیں بتاتا ہے کہ زبان ترسیل کے دوسرے ذرائع سے کس طرح مختلف ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ انسانی زبان جانوروں کی زبان اور مشینی زبان سے کوئی علاحدہ چیز ہے۔ اور جب ذکر انسانی زبان کا آجائے تو یہ بات خود بخود طے ہوجاتی ہے کہ Semiotics کا سب سے اہم سروکار لفظ ہے۔ لفظوں کا کولڈ اسٹوریج ڈکشنریاں ہوتی ہیں، طرح طرح کی ڈکشنریاں، مختلف مقاصد کے تحت تیار کی گئی ڈکشنریاں۔ ادیبوں کی ڈکشنریاں تیار کرنے کا رواج بھی عرصے سے چلا آرہا ہے جہاں ایک ڈکشنری میں وہ تمام الفاظ یکجا کردیے جاتے ہیں جو کسی ادیب نے اپنی تحریروں میں استعمال کیے ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ الفاظ کسی ادیب نے استعمال کیے ہوں اس کا ذخیرۂ الفاظ اتنا ہی وقیع قرار پاتا ہے۔ مثلاً ملٹن کے بارے میں کہا جاتا ہے اس نے 8000 الفاظ استعمال کیے، اسی طرح دانتے نے ڈِوائن کومیڈی میں 5860، ہومر نے اپنی نظموں میں 9000 ، یہاں تک کہ پشکن نے 21000 اور شیکسپیئر نے 24000 الفاظ کا استعمال کیا۔ چناں چہ اگر ملٹن نے ’جنّتِ گم گشتہ‘ میں صرف 8000 الفاظ کا اور دانتے نے ڈِوان کومیڈی میں صرف 5860 الفاظ کا استعمال کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کا مجموعی ذخیرۂ الفاظ صرف اتنا ہی تھا۔ اپنے مجموعی ذخیرۂ الفاظ میں سے فن کار اپنے کسی شاہکار میں جن چنندہ الفاظ کا انتخاب کرتا ہے تو اسی سیاق میں وہ اس کا ذخیرۂ الفاظ کہلاتا ہے۔ ادیب اور شاعر کے اسی ذخیرۂ الفاظ کو اس کی Frequency Dictionary کی شکل دی جاسکتی ہے جس سے یہ پتا چل سکتا ہے کہ ایک ادیب کے ہاں فلاں لفظ کتنی بار استعمال ہوا اور ایک ہی لفظ کے متعدد بار استعمال سے اس لفظ کی کتنی نئی نئی جہات سامنے آئیں۔ اس طرح Frequency Dictionary کی مدد سے قاری یا نقاد کے لیے کسی فن پارے کی فی بطنِ فن کار معنویت کو بروئے کار لانے کا کام نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔ متنوع معانی اور مفاہیم کے فولاد کو محدود الفاظ کی تکرار کی برفیلی آنچ پر پگھلانے کا عمل فن کارانہ سطح پر بڑے جوکھم کا کام ہے۔ تاہم Frequency Dictionary کسی بھی ادیب یا شاعر کی یونہی نہیں بنائی جاسکتی یہ تو غالبؔ جیسے کسی ایسے شاعر ہی کی بنائی جاسکتی ہے جس کی فن کارانہ وسعتوں کو ہم اب تک جتنا ناپ چکے ہیں اس سے کہیں زیادہ ناپنے کی پیاس ابھی ہمارے اندر باقی ہو۔
شمس الحق عثمانی کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ تخلیقی ادب کے متون کا مطالعہ بہت ڈوب کر کرتے ہیں۔ نظیرؔ اکبرآبادی، راجندر سنگھ بیدی اور منٹو سامنے کی مثالیں ہیں۔ اب انھوں نے غالبؔ سے رجوع کیا ہے اور غالبؔ کے بارے میں تھوڑا سا مختلف انداز میں سوچنے کی کوشش کی ہے۔ دراصل ان کا یہ مضمون غالبؔ پر سوچنے والوں کے لیے نئے در کھولتا ہے۔ یہاں ’غالبِ مجنون‘ کے عنوان سے انھوں نے کلامِ غالبؔ کے اس حصے کا انتخاب پیش کیا ہے جہاں غالبؔ کے ہاں قصہ لیلیٰ مجنوں کی تلمیح سے تعلق رکھنے والے الفاظ آئے ہیں۔ اس انتخاب کے مطالعے سے نہ صرف یہ بات سامنے آتی ہے کہ غالبؔ نے اس تلمیح کے دائرے میں آنے والا کون کون سا لفظ کتنی بار استعمال کیا بلکہ یہ بھی کہ اس لفظ نے کتنے معنیاتی چولے بدلے ہیں۔ یہ ایک عظیم فن کار کے پوشیدہ امکانات کی بازیافت کا ایک اور راستہ ہے جس کی نشان دہی Semiotics کے شعبے میں Frequency Dictionary کے حوالے سے پہلے سے ہوتی چلی آرہی ہے۔
میرؔ اور غالبؔ اردو کے دو بڑے شاعر ہیں لیکن دونوں کا بنیادی فرق شاید یہ ہے کہ میرؔ ایک باریک بیں نگاہ کے اور غالبؔ ایک دوررس نظر کے حامل ہیں، اس فرق کو سمجھنے میں ہم انگریزی کے دو لفظوں Intensive اور Extensive کی مدد لے سکتے ہیں۔ میرؔ کی باریک بیں نگاہ شہر دہلی کے محدود رقبے کی لاانتہا گہرائیوں میں اترتی چلی جاتی ہے اور غالبؔ کی دور رس نظر کائنات کی پہنائیوں کو پھلانگنے کے عمل میں مبتلا نظر آتی ہے۔ اسی لیے جب شہر اور بیاباں کی سرحد پر ہم میرؔ اور غالبؔ دونوں کو کھڑا دیکھتے ہیں تو میرؔ کی پشت بیاباں کی طرف اور نگاہ شہر کی جانب اور غالبؔ کی پشت شہر کی طرف اور نظر بیاباں کی وسعتوں کی جانب ہوتی ہے۔ چناں چہ میرؔ :
ہم کو دیوانگی شہروں ہی میں خوش آتی ہے
دشت میں قیس رہو، کوہ میں فرہاد رہو
اور غالبؔ :
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
سوال یہ ہے کہ غالبؔ کو ’غالبِؔ مجنون‘ کس شے نے بنایا۔ کیا وہ بھی قیس کی طرح کسی لیلیٰ کا دیوانہ تھا؟ شاید نہیں:
ہے سنگ پر برات معاشِ جنون کی
یعنی ہنوز منتِ طفلاں اٹھائیے؟
گویا ’غالبِؔ مجنون‘ کو، جس کے آگے دنیا ’بازیچۂ اطفال‘ ہے، اگر منّتِ طفلاں ہی اٹھانا ہے تو تف ہے اس پر۔ اسے اس کام کی فرصت ہے اور نہ یہ اس کا مرتبہ:
تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
فرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے
اور یہ وہ کشاکشِ غمِ روزگار نہیں جہاں دمشق کے لوگ عشق کرنا بھول گئے تھے بلکہ یہ تو ’کشاکشِ غمِ پنہاں‘ ہے، وہی کشاکشِ غمِ پنہاں جس کا دوسرا نام ’سوزِ غم ہائے نہانی‘ ہے، یعنی:
آتشِ دوزخ میں وہ گرمی کہاں
سوزِ غم ہائے نہانی اور ہے
معاملہ یہ ہے کہ غالبؔ کا دم گھٹتا ہے کائنات کی لاانتہا وسعتوں کی کال کوٹھری میں۔ ایسی صورت میں اس کا اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو یہی کہ کم از کم وہ تنگیِ شہر کا پھندا تو اپنی گردن سے نکال پھینکے اور بیاباں نورد ہوجائے۔ دراصل غالبؔ کو جو چیز پاگل کیے دے رہی ہے وہ یہی کائنات کی پہنائیاں در پہنائیاں ہیں، یعنی Enormity and Expanse of Universe:
ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے
میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
اور جب ان باتوں کو سوچ سوچ کر ذہن ماؤف ہونے لگتا ہے تو بالآخر سر پھوڑنے کو جی چاہتا ہے مگر کیوں کر؟ ’صحرا میں یا خدا کوئی دیوار بھی نہیں‘۔ ایسے میں صحرا میں نصب لیلیٰ کا خیمہ بھی بے در و دیواریّت کی علامت بن جاتا ہے:
کہاں تک رووں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
بہرحال تو ’غالبِؔ مجنون‘ کو آپ کے سامنے لانے کا مقصد شمس الحق عثمانی کے ہاں شاید یہی ہے۔ لیکن اس سطح پر صرف اردو کلام کی بنیاد پر غالبؔ سے معاملہ کرنا کیا غالبؔ کو دریافت کرلینے کے لیے کافی ہوگا؟ شاید نہیں۔ لہٰذا اس مطالعے کی دعوت کے بعد جو یہاں شمس الحق عثمانی ہمیں دے رہے ہیں کیا غالبؔ کے ایک سنجیدہ قاری کی حیثیت سے ہماری یہ ذمّے داری نہیں ہوجاتی کہ ہم غالبؔ کے فارسی کلام کی بھی سیر کریں۔
اڈیٹر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’... سُنو صاحب شعرا میں فردوسی اور فقرا میں حسن بصری اور عشّاق میں مجنوں، یہ تین آدمی، تین فن میں سرِ دفتر اور پیشوا ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ فردوسی ہوجاوے۔ فقیر کی انتہا یہ ہے کہ حسن بصری سے ٹکّر کھائے۔ عاشق کی نمود یہ ہے کہ مجنوں کی ہم طرحی نصیب ہو...‘‘
(خط بنام مرزا حاتم علی مہر، مرقومہ ۱۸۶۰ء مشمولہ
’غالب کے خطوط‘ جلد دوم، مرتّبۂ خلیق انجم
ناشر: غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، ۱۹۸۵ء، صفحہ ۷۲۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد آیا جو وہ کہنا کہ نہیں واہ غلط
کی تصوّر نے بہ صحراے ہوس راہ غلط
(مطلعِ غالبؔ ، بعمر سولہ سال، سنہ تحریر: ۱۸۱۲ء)
ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
میں دشتِ غم میں آہوئے صیّاد دیدہ ہوں
(مطلعِ غالبؔ ، رحلت سے دو سال قبل، سنہِ تحریر: ۱۸۶۷ء)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف حسین حالیؔ کی ’یادگارِ غالبؔ ‘ (۱۸۹۷ء) سے سنہ ۲۰۰۷ء تک اُن چھوٹے بڑے ادب فہموں کی فہرست بہت طویل ہے جنھوں نے دیوانِ غالبؔ (اردو) میں بندھے طلسمِ معنی کو کھولنے کی سعی میں، صاحبِ دیوان کو وہ وہ دادِ سخن دی ہے کہ اردو کے کئی دیوان و کلّیات مدّتوں اپنے واجب حق کے لیے ترستے رہے۔۔۔۔ لہٰذا یہ تحریر، کلامِ غالبؔ کی کسی جہت کی توضیح و تحسین میں منہ پھوڑنے کے بجائے، دیوانِ غالبؔ کامل کے اُس انتخاب کی مختصر تمہید ہے ۔۔۔۔ دخل در معقولات ہے۔۔۔۔ جو آئندہ صفحات میں پیش کیا جارہا ہے۔
کلامِ غالبؔ کی داد دینے والوں میں: وہ سخن فہم بھی شامل ہیں جنھوں نے دیوانِ غالبؔ کی غزل وار یا فرد فرد شرحیں قلم بند کی ہیں۔۔۔۔ وہ زیرک بھی جنھوں نے کلامِ غالبؔ میں جھلکتے جھمکتے افکار و احساسات کا کوئی پہلو نمایاں کیا ہے۔۔۔۔ اور وہ فہیم بھی جنھیں اپنے تحصیل شدہ علوم و فنون اور اختیار کردہ عقائد و نظریات کے طومار، شعرِ غالبؔ میں بندھے نظر آئے ہیں۔
تفہیم و نقدِ غالبؔ کی (مختلف المراتب) کاوشوں نے مجموعی طور پر، نہ صرف کلامِ غالبؔ میں کار فرما فنّی ہنرمندیوں اور تجربہ و فکر کی متعدّد جہات کو منکشف کیا بلکہ دیگر اہم شاعروں کے طرزِ کلام اور طرزِ فکر وغیرہ تک رسائی کے ڈھنگ بھی سکھائے ہیں۔
ان کاوشوں میں سے بیشتر، کلامِ غالبؔ کی کسی ایک فکری، یا معنوی، یا فنّی جہت کی توضیح و تعبیر پر مبنی ہیں۔۔۔۔ ان میں سے کئی، بہت خوب ہیں۔۔۔۔ لیکن کسی ایک غزل، یا ایک شعر، یا ایک معنوی/فکری جہت پر مرکوز ہونے کے باعث، غالبؔ کے مجموعی تخلیقی ذہن کے اُس خاص الخاص عمل کو نشان زدہ نہ کرسکیں جس کے فیضان سے کلامِ غالبؔ ، ہر اہم شاعر کے کلام کی طرح، ایک مخصوص لفظیات کا حامل و عامل بنا ہے۔
وہ لفظیات، جہانِ عشق کے اُس معروف کردار کی حکایتِ عشق سے ماخوذ ہے جسے غالبؔ نے ویسے تو عمر کی آخری دہائی یعنی ۱۸۶۰ء میں، فنِ عشق میں ’سرِ دفتر‘ اور ’پیشوا‘ قرار دیا تھا مگر اُس کی حکایتِ عشق و ہجر سے منسوب لفظیات کو اپنے کلام میں آغازِ شاعری سے ہی برتنے لگے تھے اور اُس میں تاعمر نت نئی لطافتیں، نزاکتیں اور پیچیدگیاں خلق کرتے رہے۔ اُن کے حواس پر وارد تقریباً ہر تجربے کی موثّر ترین شعری تجسیم غالباً اِسی لفظیات کے سہارے ہوئی ہے۔ شعرِ غالبؔ کا متکلّم جب جب باطنی ہیجان و آشوب کو زبان دیتا ہے، یہی لفظیات اس کا تکیۂ کلام بنتی ہے۔ شخص اور شاعر اسدؔ و غالبؔ کے کوائف اور تجربوں کا ذریعۂ ترسیل بنتے بنتے، بنتے بنتے، یہ لفظیات اس حد تک اُن کے اجارے میں آگئی ہے کہ حکایتِ مجنوں کے بجائے شخص اور شاعر غالبؔ کی لفظیات محسوس ہونے لگی ہے۔ یعنی صحرائے نجد اور دجلہ و فرات کی فضائیں، ہند ایرانی لسانِ شعر اور سبکِ ہندی کا رس جس، یک جان ہوکر، دیوانِ غالبؔ کی تخلیقی کائنات کا سامانِ تعمیر بن گیا ہے۔
’دیوانِ غالبؔ کامل‘ (مرتبّۂ کالی داس گپتا رضا) کی بنا پر صرف غزلوں سے منتخب تقریباً پونے چار سو اشعار میں کارفرما لفظیات سے قارئین کو باور آئے گا کہ غالبؔ کا مجموعی تخلیقی ذہن، از اول تا آخر، از ۱۸۱۲ء تا ۱۸۶۷ء، مشربِ قیس کی جنوں آثار کائنات میں جیتا بستا رہا کیوں کہ اُس کے افکار و حواس کی جولانیاں کم از کم ایسی ہی وسعت میں اپنے بال و پَر وا کرسکتی تھیں۔۔۔۔۔ لہٰذا: صحرا، دشت، بیاباں، ریگ، گردباد، ذرّے، غبار، جنون، جوش، تپش، آشوب، شورش، وحشت، آہو، آبلہ، خار، آوارگی، زنجیر، لیلیٰ، محمل، تمنّا، حسرت وغیرہ وغیرہ کے: بے شمار منفرد اور لاتعداد مرکّب رنگ اور لشکارے، دیوانِ غالبؔ میں وہ طلسمِ معنی خلق کررہے ہیں جس کے باعث اردو کے ماقبل و مابعد شاعروں میں غالبؔ کے مجموعی تخلیقی ذہن کو ہنوز ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ منتخب اشعار میں یہ الفاظ کم و بیش پانچ سو چھیانوے (۵۹۶) بار استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں لفظِ وحشت سب سے زیادہ یعنی اٹھانوے (۹۸) مرتبہ، جنوں بہتّر(۷۲) اور دیوانگی و دیوانہ گیارہ (۱۱) مواقع پر استعمال ہوئے ہیں۔ صحرا اور دشت کا مذکور چوّن (۵۴) اور اکتّیس (۳۱) مرتبہ ہے تو آبلہ کا چوبیس (۲۴) اور ویرانہ و بیاباں کا بتّیس (۳۲) بار۔ سراب ایک اور غبار تیئیس (۲۳) جگہ ہے۔ گرد گرداب اور گردباد اکّیس (۲۱) اور خاک و خاشاک بیس (۲۰) مقامات پر آئے ہیں۔ قیس یا مجنوں چھتّیس (۳۶)، لیلیٰ چودہ (۱۴)، محمل سترہ (۱۷)، سنگ آٹھ (۸)، زنداں پانچ (۵)، نالہ چار(۴) اور خار و زنجیر بائیس بائیس (۲۲) مواقع پر استعمال ہوئے ہیں۔ رم، رمیدگی اور رفتار کے محل دس (۱۰) ہیں۔ آتش، برق، اضطراب، شوریدگی اور اِن کے تلازمے اکہتّر (۷۱) مواقع پر استعمال ہوئے ہیں۔
بطور بانگی یہ چند شعر۔۔۔۔ جو انتخاب میں اپنی زمانی ترتیب کے لحاظ سے بھی درج ہیں:
نہ پوچھ وسعتِ مے خانۂ جنوں غالبؔ 
جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشتِ خیال
اک سفیدی مارتی ہے دور سے چشمِ غزال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
شوخیِ اظہار غیر از وحشتِ مجنوں نہیں
لیلیِ معنی اسد محمل نشینِ راز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
جوشِ جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ 
صحرا ہماری آنکھ میں یک مشتِ خاک ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
سر پر ہجومِ دردِ غریبی میں ڈالیے
وہ ایک مشتِ خاک کہ صحرا کہیں جسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
دیوانگی اسدؔ کی حسرت کشِ طرب ہے
سر میں ہوائے گلشن دل میں غبارِ صحرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ملی نہ وسعتِ جولانِ یک جنوں ہم کو
عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
آیا نہ بیابانِ طلب گامِ زباں تک
تبخالۂ لب ہو نہ سکا آبلۂ پا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
خوش وحشتے کہ عرضِ جنونِ وفا کروں
جوں گردِ راہ، جامۂ ہستی قبا کروں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
جنونِ فرقتِ یارانِ رفتہ ہے غالبؔ 
بسانِ دشت دلِ پُرغبار رکھتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
قیس نے از بس کہ کی سیرِ گریبانِ نفس
یک دو چیں دامانِ صحرا پردۂ محمل ہُوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
غمِ مجنوں عزادارانِ لیلیٰ کا پرستش گر
خمِ رنگِ سیہ پیمانۂ ہرچشمِ آہو تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
وسعتِ جیبِ جنونِ تپشِ دل مت پوچھ
محملِ دشت بدوشِ رمِ نخچیر آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
بہ امّیدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرت
مبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اُس کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
یک قلم کاغذِ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
نقشِ پا میں ہے تبِ گرمیِ رفتار ہنوز
یوں، صحرا و زندانِ قیس اور لیلیٰ و محمل، اِن کے تمام معروف تلازمے اور مانوس متعلّقات؛ دیوانِ غالب میں تاثیر و معنی آفرینی کی وسیع تر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ۔۔۔۔ اب ۔۔۔۔ اپنی ازسرِنو تفہیم کی دعوت بھی دے رہے ہیں:
فنا تعلیمِ درسِ بے خودی ہوں اُس زمانے سے
کہ مجنوں ’لام الف‘ لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ میں اور مجنوں میں وحشت سازِ دعوا ہے اسدؔ 
برگ برگِ بید ہے ناخن زدن کی فکر میں


اس انتخاب کے لیے ’دیوانِ غالبؔ کامل‘ مرتّبۂ کالی داس گپتا رضا (بارِسوم، ۱۵؍فروری ۱۹۹۵ء ساکار پبلشرز، بمبئی) کو پیشِ نظر رکھا ہے کیوں کہ اِس میں کلام کی سنہ وار ترتیب کے لیے معتبر مآخذ، بالخصوص دیوانِ غالبؔ نسخۂ عرشی، مرتّب کے پیشِ نظر رہے تھے۔ ۱۹۹۵ء کا مطبوعہ نسخہ الحاقی کلام سے تقریباً پاک ہے۔ اِس نسخے کے ہر صفحے پر درج سنین سے عام قاری کو بیک نظر معلوم ہوجاتا ہے کہ مندرجۂ ذیل اشعار کس زمانے میں کہے گئے تھے۔ انتخاب میں شامل اشعار کی ترتیب اِسی نسخے کے مطابق ہے اور ہر صفحے پر سنین کا اندراج بھی اِسی کی پیروی میں ہے۔ اس نسخے میں علاماتِ اوقاف کا استعمال کیا گیا ہے جب کہ راقم الحروف نے اس باب میں شمس الرحمن فاروقی کے موقف پر عمل کیا ہے:
’’ ... علامات کے نہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی شعر کی متعدد قرأتیں ممکن ہوسکتی ہیں ... ہمارے یہاں ترتیبِ متن کے نئے اصولوں کے تحت بعض لوگ شعر میں اوقاف لگانا ضروری سمجھتے ہیں۔ کلاسیکی شاعری کی حد تک میں اِس طریقِ کار کو نقصان دہ اور غلط سمجھتا ہوں۔ اوقاف لگانے سے یہ آسانی تو ہوتی ہے کہ شعر کو پڑھنے میں تھوڑی سی مدد ملتی ہے، لیکن اوقاف شعر کی قرأت میں مخل بھی ہوتے ہیں اور شعر کے معنی کو تو یقیناًمحدود کردیتے ہیں۔ یہ صورت اُس وقت خاص کرکے نقصان دہ ہوتی ہے، جب شعر بظاہر سادہ ہو...‘‘
(تفہیمِ غالبؔ ، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، ۱۹۸۹ء، صفحہ ۸۶)
لیکن ۔۔۔۔ عام قاری کی ’تھوڑی سی مدد‘ کے خیال سے (نسخۂ عرشی کی روش اختیار کرتے ہوئے) اشعار میں لگی اضافتیں حذف نہیں کی گئیں:
۱۸۱۲ء
یاد آیا جو وہ کہنا کہ نہیں واہ غلط
کی تصوّر نے بہ صحراے ہوس راہ غلط
۱۸۱۶ء
شوخیِ نیرنگ صیدِ وحشتِ طاؤس ہے
دام سبزے میں ہے پروازِ چمن تسخیر کا
وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ 
جز مژہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
بس کہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
موے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
(۵)
سویدا تا بلب زنجیریِ دودِ سپند آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود آرا وحشتِ چشم پری سے شب وہ بدخو تھا

کہ موم آئینۂ تمثال کو تعویذِ بازو تھا
غمِ مجنوں عزادارانِ لیلیٰ کا پرستش گر

خمِ رنگِ سیہ پیمانۂ ہر چشمِ آہو تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسدؔ ہر اشک ہے یک حلقہ بر زنجیر افزودن

بہ بندِ گریہ ہے نقشِ برآب امّیدِ رستن ہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسانِ جوہرِ آئینہ از ویرانیِ دل ہا

غبارِ کوچہ ہاے موج ہے خاشاکِ ساحل ہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہ امّیدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرت
(۱۰)
مبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اُس کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسعتِ جیبِ جنونِ تپشِ دل مت پوچھ

محملِ دشت بدوشِ رمِ نخچیر آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرِ آں سوے تماشا ہے طلب گاروں کا

خضر مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کا
وحشتِ نالہ بہ وا مندگیِ وحشت ہے

جرسِ قافلہ یاں دل ہے گراں باروں کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے مے کسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہی

کھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا
بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار
(۱۵)
یہ میکدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداے بے سرو پا ہیں

کہ ہے سر پنجۂ مژگانِ آہو پشت خار اپنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کہ جوشِ گریہ سے زیر و زبر ویرانہ تھا

چاکِ موجِ سیل، تا پیراہنِ دیوانہ تھا
ساتھ جنبش کے بیک برخاستن طے ہوگیا

تو کہے صحرا غبارِ دامنِ دیوانہ تھا
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کردیا

غالبؔ ، ایسے گنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
اے اسدؔ رویا جو دشتِ غم میں میں حیرت زدہ
(۲۰)
آئنہ خانہ ز سیلِ اشک ہر ویرانہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظر بازی طلسمِ وحشت آبادِ پرستاں ہے

رہا بے گانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بروے قیس دستِ شرم ہے مژگانِ آہو سے

مگر روزِ عروسی گم ہوا تھا شانہ لیلیٰ کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے راہِ سخن میں خوفِ گمراہی نہیں غالبؔ 

عصاے خضرِ صحراے سخن ہے خامہ بیدلؔ کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوقتِ کعبہ جوئی ہا جرس کرتا ہے ناقوسی

کہ صحرا فصلِ گل میں رشک ہے بُتخانۂ چیں کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوقتِ سرنگونی ہے تصوّر انتظارستاں
(۲۵)
نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیس نے از بس کہ کی سیرِ گریبانِ نفس

یک دو چیں دامانِ صحرا پردۂ محمل ہوا
خاکِ عاشق بس کہ ہے فرسودۂ پروازِ شوق

جادۂ ہر دشت تارِ دامنِ قاتل ہوا
اے بہ ضبطِ حال خونا کردگاں جوشِ جنوں

نشّۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشی بن صیّاد نے ہم رم خوردوں کو کیا رام کیا

رشتۂ چاکِ جیبِ دریدہ صرفِ قماشِ دام کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجب اے آبلہ پایانِ صحراے نظر بازی
(۳۰)
کہ تارِ جادۂ رہ رشتۂ گوہر نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر منزلِ ہستی سے ہے صحرائے طلب دور

جو خط ہے کفِ پا پہ سو ہے سلسلۂ پا
آیا نہ بیابانِ طلب گامِ زباں تک

تبخالۂ لب ہو نہ سکا آبلۂ پا
فریاد سے پیدا ہے اسدؔ گرمیِ وحشت

تبخالۂ لب ہے جرسِ آبلۂ پا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا

شوخیِ وحشت سے افسانہ فسونِ خواب تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موج سے پیدا ہوئے پیراہنِ دریا میں خار
(۳۵)
گریہ وحشت بے قرارِ جلوۂ مہتاب تھا
کچھ نہ کی اپنی جنونِ نارسا نے ورنہ یاں

ذرّہ ذرّہ روکشِ خُرشیدِ عالم تاب تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبِ اختر قدحِ عیش نے محمل باندھا

بارِ یک قافلۂ آبلہ منزل باندھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلوتِ آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا

خوں ہے دل تنگیِ وحشت سے بیاباں میرا
حسرتِ نشّۂ وحشت نہ بہ سعیِ دل ہے

عرضِ خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
عالمِ بے سرو سامانیِ فرصت مت پوچھ
(۴۰)
لنگرِ وحشتِ مجنوں ہے بیاباں میرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یک گام بے خودی سے لوٹیں بہارِ صحرا

آغوشِ نقشِ پا میں کیجے فشارِ صحرا
وحشت اگر رسا ہے بے حاصلی ادا ہے

پیمانۂ ہوا ہے مشتِ غبارِ صحرا
اے آبلے کرم کر، یاں رنجہ اِک قدم کر

اے نورِ چشمِ وحشت، اے یادگارِ صحرا
دل در رکابِ صحرا خانہ خرابِ صحرا

موجِ سرابِ صحرا عرضِ خمارِ صحرا
ہر ذرّہ یک دلِ پاک آئینہ خانہ بے خاک
(۴۵)
تمثالِ شوقِ بے باک صدجا دو چارِ صحرا
دیوانگی اسدؔ کی حسرت کشِ طرب ہے

سر میں ہواے گلشن دل میں غبارِ صحرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں

کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کہ ہے میخانہ ویراں جوں بیابانِ خراب

عکسِ چشمِ آہوے رم خوردہ ہے داغِ شراب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے ہوس محمل بدوشِ شوخیِ ساقیِ مست

نشّۂ مے کے تصوّر میں نگہبانی عبث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محملِ پیمانۂ فرصت ہے بر دوشِ حباب
(۵۰)
دعویِ دریا کشی و نشّہ پیمائی عبث
قیس بھاگا شہر سے شرمندہ ہوکر سوے دشت

بن گیا تقلید سے میری یہ سودائی عبث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاخِ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس

طفلِ شوخِ غنچۂ گل بس کہ ہے وحشی مزاج
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیدل نہ نازِ وحشتِ جیبِ دریدہ کھینچ

جوں بوے غنچہ یک نفسِ آرمیدہ کھینچ
یک مشتِ خوں ہے پرتوِ خور سے تمام دشت

دردِ طلب بہ آبلۂ نادمیدہ کھینچ
برقِ بہار سے ہوں میں پا در حنا ہنوز
(۵۵)
اے خارِ دشت دامنِ شوقِ رمیدہ کھینچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس بات پہ مغرور ہے اے عجزِ تمنّا

سامانِ دُعا وحشت و تاثیرِ دعا ہیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد

ہے غلافِ دفچۂ خُرشید ہر یک گرد باد
کیجے آہوے ختن کو خضرِ صحراے طلب

مشک ہے سنبلستانِ زلف میں گردِ سواد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویرانے سے جز آمد و رفتِ نفس نہیں

ہے کوچہ ہاے نے میں غبارِ صدا بلند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوکبِ بخت بجز روزنِ پُردود نہیں
(۶۰)
عینکِ چشمِ جنوں حلقۂ کاکل تاچند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینش بہ سعیِ ضبطِ جنوں نوبہار تر

دل در گدازِ نالہ نگہ آبیار تر
ہر گرد باد حلقۂ فتراکِ بے خودی

مجنونِ دشتِ عشق تحیّر شکار تر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تکلّف خار خارِ التماسِ بے قراری ہے

کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشتِ سوزن پر
یہ کیا وحشت ہے اے دیوانے پیش از مرگ واویلا

رکھی بے جا بناے خانۂ زنجیر شیون پر
جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
(۶۵)
گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کی سامانِ عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی

ہوا جامِ زمرّد بھی مجھے داغِ پلنگ آخر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرورشِ نالہ ہے وحشتِ پرواز سے

ہے تہِ بالِ پری بیضۂ بلبل ہنوز
عشق کمیں گاہِ درد وحشتِ دل دور گرد

دامِ تہِ سبزہ ہے حلقۂ کاکل ہنوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھا مجھ کو خار خارِ جنونِ وفا اسدؔ 

سوزن میں تھا نہفتہ گلِ پیرہن ہنوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ہوں سرابِ یک تپش آموختن ہنوز
(۷۰)
زخمِ جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
مجنوں فسونِ شعلہ خرامی فسانہ ہے

ہے شمعِ جادہ داغِ نیفروختن ہنوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داغِ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز

خلوتِ سنگ میں ہے نالہ طلب گار ہنوز
کیوں ہوا تھا طرفِ آبلۂ پا یارب

جادہ ہے واشدنِ پیچشِ طومار ہنوز
وسعتِ سعیِ کرم دیکھ کہ سر تا سرِ خاک

گزرے ہے آبلہ پا ابرِ گہر بار ہنوز
یک قلم کاغذِ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
(۷۵)
نقشِ پا میں ہے تبِ گرمیِ رفتار ہنوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کُو بیابانِ تمنّا و کجا جولانِ عجز

آبلے پا کے ہیں یاں رفتار کو دندانِ عجز
حسن کو غنچوں سے ہے پوشیدہ چشمی ہاے ناز

عشق نے واکی ہے ہر یک خار سے مژگانِ عجز
بس کہ بے پایاں ہے صحراے محبّت اے اسدؔ 

گرد باد اس راہ کا ہے عقدۂ پیمانِ عجز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے ادا فہماں صدا ہے تنگیِ فرصت سے خوں

ہے بہ صحراے تحیّر چشمِ قربانی جرس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشتِ الفت میں ہے خاکِ کشتگاں محبوس و بس
(۸۰)
پیچ تابِ جادہ ہے خطِّ کفِ افسوس و بس
کفر ہے غیر از وفورِ شوق رہبر ڈھونڈھنا

راہِ صحراے حرم میں ہے جرس ناقوس و بس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں برق و شرر جُز وحشت و ضبطِ تپیدن ہا

بلا گردانِ بے پروا خرامی ہاے یار آتش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر مضمون خاکستر کرے دیباچہ آرائی

نہ باندھے شعلۂ جوّالہ غیر از گرد باد آتش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ہمہ حیرت جنوں بیتابِ دورانِ خمار

مردمِ چشمِ تماشا نقطۂ پرکارِ باغ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
(۸۵)
تھا محملِ نگاہ بدوشِ شرار حیف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشتِ خیال

اک سفیدی مارتی ہے دور سے چشمِ غزال
عرضِ دردِ بے وفائی وحشتِ اندیشہ ہے

خوں ہوا دل تا جگر یارب زبانِ شکوہ لال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے دلوں سے ہے تپش جوں خواہشِ آب از سراب

ہے شرر موہوم اگر رکھتا نہ ہووے سنگ دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رمیدن گلِ باغِ واماندگی ہے

عبث محمل آراے رفتار ہیں ہم
تغافل کمیں گاہِ وحشت شناسی
(۹۰)
نگہبانِ دل ہاے اغیار ہیں ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرنے نہ پائے ضعف سے شورِ جنوں اسدؔ 

اب کے بہار کا یُنہیں گزرا برس تمام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوش وحشتے کہ عرضِ جنونِ فنا کروں

جوں گردِ راہ جامۂ ہستی قبا کروں
گر بعدِ مرگ وحشتِ دل کا گلا کروں

موجِ غبار سے پرِ یک دشت وا کروں
خوش اوفتادگی کہ بہ صحراے انتظار

جوں جادہ گردِ رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
وہ بے دماغِ منّتِ اقبال ہوں کہ میں
(۹۵)
وحشت بہ داغِ سایۂ بالِ ہُما کروں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پایا سرِ ہر ذرّہ جگر گوشۂ وحشت

ہیں داغ سے معمور شقایق کی کلاہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غریبِ وحشت آبادِ تسلّی ہوں جسے

کوچہ دے ہے زخمِ دل صبحِ وطن کی فکر میں
فالِ ہستی خار خارِ وحشتِ اندیشہ ہے

شوخیِ سوزن ہے ساماں پیرہن کی فکر میں
مجھ میں اور مجنوں میں وحشت سازِ دعوا ہے اسدؔ 

برگ برگِ بید ہے ناخن زدن کی فکر میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برہنہ مستیِ صبحِ بہار رکھتے ہیں
(۱۰۰)
جنونِ حسرتِ یک جامہ وار رکھتے ہیں
جنونِ فرقتِ یارانِ رفتہ ہے غالبؔ 

بسانِ دشت دلِ پر غبار رکھتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیامت ہے کہ سُن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آنا

تعجب سے وہ بولا: یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکوہش مانعِ بے ربطیِ شورِ جنوں آئی

ہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیب و دامن میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزاروں دل دیے جوشِ جنونِ عشق نے مجھ کو

سیہ ہوکر سویدا ہوگیا ہر قطرہ خوں تن میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دورانِ سر سے گردشِ ساغر ہے متّصل
(۱۰۵)
خمخانۂ جنوں میں دماغِ رسیدہ ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے دماغی حیلہ جُوے ترکِ تنہائی نہیں

ورنہ کیا موجِ نفس زنجیرِ رسوائی نہیں
وحشیِ خوکردۂ نظّارہ ہے حیرت جسے

حلقۂ زنجیر جز چشمِ تماشائی نہیں
کس کو دوں یارب حسابِ سوز ناکی ہاے دل

آمد و رفتِ نفس جز شعلہ پیمائی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوچکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز

زینتِ یک پیرہن جوں دامنِ صحرا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشانی اسدؔ درپردہ ہے سامانِ جمعیّت
(۱۱۰)
کہ ہے آبادیِ صحرا ہجومِ خانہ بر دوشاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنجشِ دل یک جہاں ویراں کرے گی اے فلک

دشت ساماں ہے غبارِ خاطرِ آزردگاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشت افزا گریہ ہا موقوفِ فصلِ گل اسدؔ 

چشمِ دریا بار ہے میر آبِ سرکارِ چمن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رہنے دو گرفتار بہ زندانِ خموشی

چھیڑو نہ مجھ افسردۂ دزدیدہ نفس کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہم بالیدنِ سنگ و گلِ صحرا یہ چاہے ہے

کہ تارِ جادہ بھی کہسار کو زنّارِ مینا ہو
حریفِ وحشتِ نازِ نسیمِ عشق جب آؤں
(۱۱۵)
کہ مثلِ غنچہ سازِ یک گلستاں دل مہیّا ہو
بجاے دانہ خرمن یک بیاباں بیضۂ قمری

مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرمیِ شوقِ طلب ہے عین تا پاکِ وصال

غافلاں آئینہ داں ہے نقشِ پاے جستجو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوشِ جنوں سے جوں کسوتِ گل

سر تا بہ پا ہوں جیبِ دریدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفتار سے شیرازۂ اجزاے قدم باندھ

اے آبلے محمل پئے صحراے عدم باندھ
اے جادے بسر رشتۂ یک ریشہ دویدن
(۱۲۰)
شیرازۂ صد آبلہ جوں سُبحہ بہم باندھ
دیباچۂ وحشت ہے اسدؔ شکوۂ خوباں

خوں کر دلِ اندیشہ و مضمونِ ستم باندھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیرت ہجومِ لذتِ غلطانیِ تپش

سیماب بالش و کمرِ دل ہے آئنہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہنِ گشتن ہاے دل بزمِ نشاطِ گرد باد

لذّتِ عرضِ کشادِ عقدۂ مشکل نہ پوچھ
آبلہ پیمانۂ اندازۂ تشویش تھا

اے دماغِ نارسا خمخانۂ منزل نہ پوچھ
نَے صبا بالِ پری نَے شعلہ سامانِ جنوں
(۱۲۵)
شمع سے جز عرضِ افسونِ گدازِ دل نہ پوچھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسدؔ از بس کہ فوجِ درد و غم سرگرمِ جولاں ہے

غبارِ راہِ ویرانی ہے ملکِ دل کی آبادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنونِ وحشتِ ہستی یہ عام ہے کہ بہار

رکھے ہے کسوتِ طاؤس میں پر افشانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماسِ رنگ

خونِ جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشت بہارِ نشّہ و گل ساغرِ شراب

چشمِ پری شفق کدۂ راز ہے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اپنے جنوں کی بے تکلّف پردہ داری تھی
(۱۳۰)
ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی

نمک پاشِ خراشِ دل ہے لذّت زندگانی کی
کشاکش ہائے ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادی

ہوئی زنجیر موجِ آب کو فرصت روانی کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشے

اگر بودے بجاے دانہ دہقاں نوک نشتر کی
بجز دیوانگی ہوتا نہ انجامِ خود آرائی

اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوں رسوائیِ وارستگی زنجیر بہتر ہے
(۱۳۵)
بقدرِ مصلحت دل بستگی تدبیر بہتر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ز بس کہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے

کشاد و بستِ مژہ سیلیِ ندامت ہے
وفا مقابل و دعواے عشق بے بنیاد

جنونِ ساختہ و فصلِ گل قیامت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجبیں رکھتی ہے شرمِ قطرہ سامانی مجھے

موجِ گردابِ حیا ہے چینِ پیشانی مجھے
بلبلِ تصویر ہوں بیتابِ اظہارِ تپش

جنبشِ نالِ قلم جوشِ پر افشانی مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پا بہ دامن ہورہا ہوں بس کہ میں صحرا نورد
(۱۴۰)
خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے
خاکِ فرصت بر سرِ ذوقِ فنا اے انتظار

ہے غبارِ شیشۂ ساعت رمِ آہو مجھے
یادِ مژگاں میں بہ نشتر زارِ سوداے خیال

چاہیے وقتِ تپش یک دستِ صد پہلو مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریشۂ شہرت دوانیدن ہے رفتن زیرِ خاک

خنجرِ جلاّد برگِ بیدِ مجنوں ہے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کُو نفس و چہ غبار جرأتِ عجز آشکار

در تپش آبادِ شوق سرمہ صدا نام ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کہ سوداے خیالِ زلف وحشت ناک ہے
(۱۴۵)
تا دلِ شب آبنوسی شانہ آسا چاک ہے
عرضِ وحشت پر ہے نازِ ناتوانی ہاے دل

شعلۂ بے پردہ چینِ دامنِ خاشاک ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر نوشتِ اضطراب انجامیِ الفت نہ پوچھ

نالِ خامہ خار خارِ خاطرِ آغاز ہے
دستگاہِ دیدۂ خوں بارِ مجنوں دیکھنا

یک بیاباں جلوۂ گل فرشِ پا انداز ہے
شوخیِ اظہار غیر از وحشتِ مجنوں نہیں

لیلیِ معنی اسدؔ محمل نشینِ راز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوے زیر وزبر
(۱۵۰)
گردِ صحراے حرم تا کوچۂ زنّار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسعتِ مشرب نیازِ کلفتِ وحشت اسدؔ 

یک بیاباں سایۂ بالِ ہُما ہو جائیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی لطفِ ہوا نے بہ جنوں طرفہ نزاکت

تا آبلہ دعواے تنک پیرہنی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکمِ بے تابی نہیں اور آرمیدن منع ہے

باوجودِ مشقِ وحشت ہا رمیدن منع ہے
بے خودی فرماں رواے حیرت آبادِ جنوں

زخم دوزی جرم و پیراہن دریدن منع ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے تابیِ یادِ دوست ہم رنگِ تسلّی ہے
(۱۵۵)
غافل تپشِ مجنوں محمل کشِ لیلیٰ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعواے جنوں باطل تسلیم عبث حاصل

پروازِ فنا مشکل میں عجزِ تن آسانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشا وہ دل کہ سراپا طلسمِ بے خبری ہو

جنونِ یاس و الم رزقِ مدّعا طلبی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوں فسردۂ تمکیں ہے کاش عہدِ وفا

گدازِ حوصلہ کو پاسِ آبرو جانے
مسیحِ کشتۂ الفت ببر علی خاں ہیں

کہ جو اسدؔ تپشِ نبضِ آرزو جانے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زہے شب زندہ دارِ انتظارستاں کہ وحشت سے
(۱۶۰)
مژہ پیچک میں مہ کی سوزن آسا چیدنی جانے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہارِ گل دماغِ نشّۂ ایجادِ مجنوں ہے

ہجومِ برق سے چرخ و زمیں یک قطرۂ خوں ہے
عدم وحشت سراغ و ہستی آئیں بندِ رنگینی

دماغِ دو جہاں پر سنبل و گل یک شبے خوں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھتا ہوں وحشتِ شوقِ خروش آمادہ سے

فالِ رسوائی سرشکِ سر بصحرا دادہ سے
دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو

جوشِ نیرنگِ بہارِ عرضِ صحرا دادہ سے
بزمِ مے وحشت کدہ ہے کس کی چشمِ مست کا
(۱۶۵)
شیشے میں نبضِ پری پنہاں ہے موجِ بادہ سے
خیمۂ لیلیٰ سیاہ و خانۂ مجنوں خراب

جوشِ ویرانی ہے عشقِ داغ بیروں دادہ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوں چکاں ہے جادہ مانندِ رگِ سودائیاں

سبزۂ صحراے الفت نشترِ خوں ریز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ہے حوصلہ پا مردِ کثرتِ تکلیف

جنونِ ساختہ حرزِ فسونِ دانائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچشم درشدہ مژگاں ہے جوہرِ رگِ خواب

نہ پوچھ نازکیِ وحشتِ شکیبائی
ہزار قافلۂ آرزو بیاباں مرگ
(۱۷۰)
ہنوز محملِ حسرت بدوشِ خود رائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنبلستانِ جنوں ہوں ستمِ نسبتِ زلف

موکشاں خانۂ زنجیر میں لایا ہے مجھے
گردباد آئنۂ محشرِ خاکِ مجنوں

یک بیاباں دلِ بیتاب اٹھایا ہے مجھے
دردِ اظہارِ تپش کسوتیِ گل معلوم

ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
بے دماغِ تپش و عرضِ دو عالم فریاد

ہوں میں وہ خاک کہ ماتم میں اڑایا ہے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیرت آئینۂ انجامِ جنوں ہوں جوں شمع
(۱۷۵)
کس قدر داغِ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس بیاباں میں گرفتارِ جنوں ہوں کہ جہاں

موجۂ ریگ سے دل پاے بہ زنجیر آوے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشتِ شورِ تماشا ہے کہ جوں نکہتِ گل

نمکِ زخمِ جگر بال فشانی مانگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشتِ زخمِ وفا دیکھ کہ سر تا سرِ دل

بخیہ جوں جوہرِ تیغ آفتِ گیرائی ہے
نالہ خونیں ورق و دل گلِ مضمونِ شفق

چمن آراے نفس وحشتِ تنہائی ہے
بوئے گل فتنۂ بیدار و چمن جامۂ خواب
(۱۸۰)
وصلِ ہر رنگ جنوں کسوتِ رسوائی ہے
اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ 

ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشت انجمن ہے گل دیکھ لالے کا عالم

مثل دودِ مجمر کے داغ بال افشاں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گریہ سرشاریِ شوقِ بہ بیاباں زدہ ہے

قطرۂ خونِ جگر چشمکِ طوفاں زدہ ہے
سازِ وحشت رقمی ہا کہ باظہارِ اسدؔ 

دشت و ریگ آئنۂ صفحۂ افشاں زدہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فکرِ پروازِ جنوں ہے سببِ ضبط نہ پوچھ
(۱۸۵)
اشک جوں بیضہ مژہ سے تہِ پر پنہاں ہے
ہوش اے ہرزہ درا تہمتِ بے دردی چند

نالہ در گردِ تمناے اثر پنہاں ہے
وحشتِ دل ہے اسدؔ عالمِ نیرنگِ نشاط

خندۂ گل بلبِ زخمِ جگر پنہاں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیرت حجابِ جلوہ و وحشت غبارِ چشم

پاے نظر بہ دامنِ صحرا نہ کھینچیے
واماندگی بہانہ و دل بستگی فریب

دردِ طلب بہ آبلۂ پا نہ کھینچیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروازِ آشیانۂ عنقاے ناز ہے
(۱۹۰)
بالِ پری بہ وحشتِ بے جا نہ کھینچیے
ہے ذوقِ گریہ عزمِ سفر کیجیے اسدؔ 

رختِ جنونِ سیل بہ ویرانہ کھینچیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر پر ہجومِ دردِ غریبی سے ڈالیے

وہ ایک مشتِ خاک کہ صحرا کہیں جسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے ذرّہ ذرّہ تنگیِ جا سے غبارِ شوق

گر دام یہ ہے وسعتِ صحرا شکار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوشِ جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ 

صحرا ہماری آنکھ میں یک مشتِ خاک ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجزِ دیدن ہا بناز و نازِ رفتن ہا بچشم
(۱۹۵)
جادۂ صحراے آگاہی شعاعِ جلوہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شورشِ باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں

دل محیطِ گریہ و لب آشناے خندہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنبلی خواں ہے بذوقِ تارِ گیسوے دراز

نالۂ زنجیرِ مجنوں رشتہ دارِ نغمہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تپش سے میری وقفِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے

مرا سر رنجِ بالیں ہے مرا تن بارِ بستر ہے
مژہ فرشِ رہ و دل ناتوان و آرزو مضطر

بپاے خفتہ سیرِ وادیِ پرخارِ بستر ہے
سرشکِ سر بہ صحرا دادہ نورالعینِ دامن ہے
(۲۰۰)
دلِ بے دست و پا افتادہ برخوردارِ بستر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر وحشت عرق افشانِ بے پروا خرامی ہو

بیاضِ دیدۂ آہو کفِ سیلاب ہوجاوے
زبس طوفانِ آب و گل ہے غافل کیا تعجب ہے

کہ ہر یک گرد بادِ گلستاں گرداب ہوجاوے
نمک بر داغِ مشک آلودۂ وحشت تماشا ہے

سوادِ دیدۂ آہو شبِ مہتاب ہوجاوے
اسدؔ باوصف مشقِ بے تکلّف خاک گردیدن

غضب ہے گر غبارِ خاطرِ احباب ہوجاوے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرورِ نشّۂ گردش اگر کیفیّت افزا ہو
(۲۰۵)
نہاں ہر گرد بادِ دشت میں جامِ سفالی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خو نے تری افسردہ کیا وحشتِ دل کو

معشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے عرضِ شکست آئنہ جرأتِ عاشق

جز آہ کہ سر لشکرِ وحشت عَلَمی ہے
سرمایۂ وحشت ہے دلا سایۂ گلزار

ہر سبزۂ نوخاستہ یاں بالِ پری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے ہرزہ دری منّتِ تمکینِ جنوں کھینچ

تا آبلہ محمل کشِ موجِ گہر آوے
وہ تشنۂ سرشارِ تمنّا ہوں کہ جس کو
(۲۱۰)
ہر ذرّہ بہ کیفیّتِ ساغر نظر آوے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوں افسردہ و جاں ناتواں اے جلوہ شوخی کر

گئی یک عمر خود داری باستقبالِ رعنائی
جنونِ بے کسی ساغر کشِ داغِ پلنگ آیا

شرر کیفیّتِ مے سنگ محوِ نازِ مینائی
خدایا خوں ہو رنگِ امتیاز اور نالہ موزوں ہو

جنوں کو سخت بے تابی ہے تکلیفِ شکیبائی
خراباتِ جنوں میں ہے اسدؔ وقتِ قدح نوشی

بہ عشقِ ساقیِ کوثر بہارِ بادہ پیمائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیابانِ فنا ہے بعدِ صحراے طلب غالبؔ 
(۲۱۵)
پسینہ توسنِ ہمّت کا سیلِ خانۂ زیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے

صبح کے مانند زخمِ دل گریبانی کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہ بوئے زلفِ مشکیں یہ دماغ آشفتۂ رم ہیں

کہ شاخِ آہواں دودِ چراغ آسا پریشاں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غبارِ دشتِ وحشت سرمہ سازِ انتظار آیا

کہ چشمِ آبلہ میں طولِ میلِ راہ مژگاں ہے
زبس دوشِ رمِ آہو پہ ہے محمل تمنّا کا

جنونِ قیس سے بھی شوخیِ لیلیٰ نمایاں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصرّف وحشیوں میں ہے تصوّرہاے مجنوں کا
(۲۲۰)
سوادِ چشمِ آہو عکسِ خالِ روے لیلا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہ سعیِ غیر ہے قطعِ لباسِ خانہ ویرانی

کہ تارِ جادۂ رہ رشتۂ دامانِ صحرا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ سووے آبلوں میں گر سرشکِ دیدۂ نم سے

بجولاں گاہِ نومیدی نگاہِ عاجزاں پا ہے
نگہ معمارِ حسرت ہا چہ آبادی چہ ویرانی

کہ مژگاں جس طرف وا ہو بکف دامانِ صحرا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فصلِ گل میں دیدۂ خونیں نگاہانِ جنوں

دولتِ نظّارۂ گل سے شفق سرمایہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرف سے آئے ہیں آخر اُدھر ہی جائیں گے
(۲۲۵)
مرگ سے وحشت نہ کر راہِ عدم پیمودہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوں نے مجھ کو بنایا ہے مدّعی میرا

ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی تو اس سرِ شوریدہ کی بھی داد ملے

کہ ایک عمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے
نہ پوچھ کچھ سروسامان و کاروبارِ اسدؔ 

جنوں معاملہ بیدل فقیرِ مسکیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے بسملِ اداے چمن عارضاں بہار

گلشن کو رنگِ گل سے ہے درخوں طپیدگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیوانگاں ہیں حاملِ رازِ نہانِ عشق
(۲۳۰)
اے بے تمیز گنج کو ویرانہ چاہیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعد از وداعِ یار بخوں در تپیدہ ہیں

نقشِ قدم ہیں ہم کفِ پاے نگار کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہ فکرِ حیرتِ رم آئنہ پرداز زانو ہے

کہ مشکِ نافہ تمثالِ سوادِ چشمِ آہو ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ دوڑا ریشۂ دیوانگی صحنِ بیاباں میں

کہ تارِ جادہ سے ہے لُجّۂ ریگِ رواں خالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ز بس نکلا غبارِ دل بوقتِ گریہ آنکھوں سے

اسدؔ کھائے ہوئے سرمے نے آنکھوں میں بصارت کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسدؔ ہوں میں پر افشانِ رمیدن
(۲۳۵)
سوادِ شعر در گردِ سفر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنجشِ یارِ مہرباں عیش و طرب کا ہے نشاں

دل سے اٹھے ہے جو غبار گردِ سوادِ باغ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعد از ۱۸۱۶ء
وارستگی بہانۂ بے گانگی نہیں

اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہ

تونے پھر کیوں کی تھی میری غمگساری ہاے ہاے
عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ

رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوقِ خواری ہاے ہاے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
(۲۴۰)
میری وحشت تری شہرت ہی سہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم

برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
پھر گرمِ نالہ ہاے شرر بار ہے نفس

مدّت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
۱۸۲۱ء
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروے کار

صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یارب
(۲۴۵)
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
کیوں نہ وحشتِ غالبؔ باج خواہِ تسکیں ہو

کشتۂ تغافل کو خصمِ خوں بہا پایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فکرِ نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا

عضو عضو جوں زنجیر یک دلِ صدا پایا
نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائل

تجھ کو جس قدر ڈھونڈھا الفت آزما پایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا

میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
کس قدر خاک ہوا ہے دلِ مجنوں یارب
(۲۵۰)
نقشِ ہر ذرّہ سویداے بیاباں نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بتقریبِ سفر یار نے محمل باندھا

تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا
نوکِ ہر خار سے تھا بس کہ سرِ دزدیِ دل

جوں نمد ہم نے کفِ پا پہ اسدؔ دل باندھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوق ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
میں بھی معذورِ جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب

پیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
(۲۵۵)
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
سراغ آوارۂ عرضِ دو عالم شورِ محشر ہوں

پرافشاں ہے غبار آں سوے صحراے عدم میرا
نہ ہو وحشت کشِ درسِ سرابِ سطرِ آگاہی

غبارِ راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
اسد وحشت پرستِ گوشۂ تنہائیِ دل ہوں

برنگِ موجِ مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھا

اِک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
درسِ تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
(۲۶۰)
وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلّص صبور تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ربطِ یک شیرازۂ وحشت ہیں اجزائے بہار

سبزہ بیگانہ صبا آوارہ گل ناآشنا
ذرّہ ذرّہ ساغرِ میخانۂ نیرنگ ہے

گردشِ مجنوں بہ چشمک ہاے لیلا آشنا
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دلِ وحشی کہ ہے

عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یک قدم وحشت سے درسِ دفترِ امکاں کھلا

جادہ اجزاے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
مانعِ وحشت خرامی ہاے لیلیٰ کون ہے
(۲۶۵)
خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شرحِ اسبابِ گرفتاریِ خاطر مت پوچھ

اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
ہم نے وحشت کدۂ بزمِ جہاں میں جوں شمع

شعلۂ عشق کو اپنا سروساماں سمجھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملی نہ وسعتِ جولانِ یک جنوں ہم کو

عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے

میں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنّا کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا
(۲۷۰)
آئینہ خانہ وادیِ جوہر غبار تھا
موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال

ہر ذرّہ مثلِ جوہرِ تیغ آبدار تھا
صبحِ قیامت ایک دُمِ گرگ تھی اسدؔ 

جس دشت میں وہ شوخِ دوعالم شکار تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ 

سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید نہ پوچھ
(۲۷۵)
برنگِ خار مرے آئنے سے جوہر کھینچ
جنونِ آئنہ مشتاقِ یک تماشا ہے

ہمارے صفحے پہ بالِ پری سے مسطر کھینچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے جنوں اہلِ جنوں کے لیے آغوشِ وداع

چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر

میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
فنا تعلیمِ درسِ بے خودی ہوں اُس زمانے سے

کہ مجنوں ’لام الف‘ لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ ہو بہ ہرزہ بیاباں نوردِ وہمِ وجود
(۲۸۰)
ہنوز تیرے تصوّر میں ہے نشیب و فراز
ہر ایک ذرّۂ عاشق ہے آفتاب پرست

گئی نہ خاک ہوئے پر ہواے جلوۂ ناز
نہ پوچھ وسعتِ میخانۂ جنوں غالبؔ 

جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آج

گردِ ساحل ہے بہ زخمِ موجۂ دریا نمک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشتِ بے ربطیِ پیچ و خمِ ہستی نہ پوچھ

ننگِ بالیدن ہیں جوں موئے سرِ دیوانہ ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کُو تیزیِ رفتار کہ صحرا سے زمیں کو
(۲۸۵)
جوں قمریِ بسمل تپش آہنگ نکالوں
گر ہو بلدِ شوق مری خاک کو وحشت

صحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروجِ نشۂ واماندگی پیمانہ محمل تر

برنگِ ریشۂ تاک آبلے جادے میں پنہاں ہیں
بہ وحشت گاہِ امکاں اتفاقِ چشمِ مشکل ہے

مہ و خُرشید باہم سازِ یک خوابِ پریشاں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے وحشتِ جنونِ بہار اس قدر کہ ہے

بالِ پری بہ شوخیِ موجِ صبا گرو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریگِ روان و ہر تپش درسِ تسلّیِ شعاع
(۲۹۰)
آئنہ توڑ اے خیال جلوے کو خوں بہا سمجھ
وحشتِ دردِ بیکسی بے اثر اس قدر نہیں

رشتۂ عمرِ خضر کو نالۂ نارسا سمجھ
شوقِ عناں گسل اگر درسِ جنوں ہوس کرے

جادۂ سیرِ دوجہاں یک مژہ خوابِ پا سمجھ
شوخیِ حسن و عشق ہے آئنہ دارِ ہم دگر

خار کو بے نیام جان ہم کو برہنہ پا سمجھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلفتِ ربطِ این و آں غفلتِ مدّعا سمجھ

شوق کرے جو سرگراں محملِ خوابِ پا سمجھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہستی فریب نامۂ موجِ سراب ہے
(۲۹۵)
یک عمر نازِ شوخیِ عنواں اٹھائیے
ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشق

یعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے
ضبطِ جنوں سے ہر سرِ مو ہے ترانہ خیز

یک نالہ بیٹھیے تو نیستاں اٹھائیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سے

تکلّف برطرف تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر یک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ 

مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
(۳۰۰)
دریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے

اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے

نافہ دماغِ آہوے دشتِ تتار ہے
زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر

اس چشم سے ہنوز نگہ یادگار ہے
بے پردہ سوے وادیِ مجنوں گزر نہ کر

ہر ذرّے کے نقاب میں دل بیقرار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوں کر اے چمن تحریرِ درسِ شغلِ تنہائی
(۳۰۵)
نگاہِ شوق کو صحرا بھی دیوانِ غزالیؔ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے

میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
وحشتِ آتشِ دل سے شبِ تنہائی میں

صورتِ دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے
اثرِ آبلہ سے جادۂ صحراے جنوں

صورتِ رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
بے کسی ہاے شبِ ہجر کی وحشت ہے ہے

سایہ خُرشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
(۳۱۰)
ہستی کو لفظِ معنیِ عنقا کرے کوئی
لختِ جگر سے ہے رگِ ہر خار شاخِ گل

تاچند باغبانیِ صحرا کرے کوئی
ہر سنگ و خشت ہے صدفِ گوہرِ شکست

نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
ہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیز

یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
عرضِ سرشک پر ہے فضاے زمانہ تنگ

صحرا کہاں کہ دعوتِ دریا کرے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالم غبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسر
(۳۱۵)
کب تک خیالِ طرّۂ لیلا کرے کوئی
بیکاریِ جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل

جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحرا

گر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلیٰ نہ سہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خراجِ دیہہِ ویراں یک کفِ خاک

بیاباں خوش ہوں تیری عاملی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موےِ دماغِ وحشت سر رشتۂ فنا ہے

شیرازۂ دو عالم یک آہِ نارسا ہے
دیوانگی ہے تجھ کو درسِ خرام دینا
(۳۲۰)
موجِ بہار یکسر زنجیرِ نقشِ پا ہے
اے اضطرابِ سرکش یک سجدہ دار تمکیں

میں بھی ہوں شمعِ کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل

جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یک برگِ بے نوائی صد دعوتِ نیستاں

طوفانِ نالۂ دل تا موجِ بوریا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذوقِ خودداری خرابِ وحشتِ تسخیر ہے

آئنہ خانہ مری تمثال کو زنجیر ہے
ذرّہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پردازِ عرض
(۳۲۵)
ہر بیاباں یک بیاباں حسرتِ تعمیر ہے
بعد از ۱۸۲۱ء
دل تا جگر کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب

اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
احباب چارہ سازیِ وحشت نہ کرسکے

زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی

یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا
خانہ زادِ زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبراویں گے کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگر کو مرے عشقِ خونابہ مشرب
(۲۳۰)
لکھے ہے: خداوندِ نعمت سلامت
نہ اوروں کی سنتا، نہ کہتا ہوں اپنی

سرِ خستہ و شورِ وحشت سلامت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرگیا پھوڑ کے سر غالبِؔ وحشی ہے ہے

بیٹھنا اُس کا وہ آکر تری دیوار کے پاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیوانگاں کا چارہ فروغِ بہار ہے

ہے شاخِ گل میں پنجۂ خوباں بجاے گل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غمّاز

گوش ہیں در پسِ دیوار کہوں یا نہ کہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
(۲۳۵)
ایک چکّر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں

جادہ غیر از نگہِ دیدۂ تصویر نہیں
سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہوجائے

لذّتِ سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے

آبگینہ تندیِ صہبا سے پگھلا جائے ہے
سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔ 

پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آکے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے
(۳۴۰)
ولے مجھے تپشِ دل مجالِ خواب تو دے
۱۸۲۶ء
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں

یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر و بالِ دوش

صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر غبار ہوئے پر ہوا اڑالے جائے

وگر نہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دینا

کہ اُس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
بعد از ۱۸۲۶ء
کیا کہوں تاریکیِ زندانِ غم اندھیر ہے
(۳۴۵)
پنبہ نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم

دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوکر شہید عشق میں پائے ہزار جسم

ہر موجِ گردِ راہ مرے سر کو دوش ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرد بادِ رہِ بیتابی ہوں

صرصرِ شوق ہے بانی میری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے دلِ شوریدۂ غالبؔ طلسمِ پیچ و تاب

رحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے
۱۸۳۳ء
ان آبلوں سے پانو کے گھبرا گیا تھا میں
(۳۵۰)
جی خوش ہوا ہے، راہ کو پرخار دیکھ کر
سر پھوڑنا وہ غالبِؔ شوریدہ حال کا

یاد آگیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یارب

اک آبلہ پا وادیِ پُرخار میں آوے
تب چاکِ گریباں کا مزہ ہے دلِ نالاں

جب اِک نفس الجھا ہوا ہر خار میں آوے
آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سے

اے واے اگر معرضِ اظہار میں آوے
۱۸۳۸ء
اللہ رے ذوقِ دشت نوردی کہ بعدِ مرگ
(۳۵۵)
ہلتے ہیں خود بخود مرے اندر کفن کے پانو
۱۸۴۷ء
جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں

کپڑوں میں جویں بخیے کے ٹانکوں سے سوا ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیاہے

خارِ رہ کو ترے ہم مہرِ گیا کہتے ہیں
اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا

آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہرچند جاں گدازیِ قہر و عتاب ہے

ہر چند پشت گرمیِ تاب و تواں نہیں
ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
(۳۶۰)
ہے عارِ دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب

سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سحر مدّعا طلبی میں نہ کام آئے

جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
بعد از ۱۸۴۷ء
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا

بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد

ہاں کچھ اک رنجِ گراں باریِ زنجیر بھی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
(۳۶۵)
فرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے
اے ساکنانِ کوچۂ دلدار دیکھنا

تم کو کہیں جو غالبِؔ آشفتہ سر ملے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں

سوزِ غم ہاے نہانی اور ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چال

سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
۱۸۵۲ء
قد و گیسو میں قیس و کوہکن کی آزمایش ہے
(۳۷۰)
جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمایش ہے
۱۸۵۳ء
مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقولِ حضور

’فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا چرچا جو میرے پانو کی زنجیر بننے کا

کیا بیتاب کاں میں جنبشِ جوہرنے آہن کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انھیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے کیوں لڑیے

ہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے کیا کہیے
کہا ہے کس نے کہ غالب برا نہیں لیکن

سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
(۳۷۵)
گِھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام

مجنوں کو بُرا کہتی ہے لیلا مرے آگے
۱۸۵۸ء تا دسمبر ۱۸۶۵ء
سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی

یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
۱۸۶۷ء
جو بعدِ قتل مرا دشت میں مزار بنا

لگاکے بیٹھتے ہیں اس سے راہ زن تکیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
(۳۷۹)
میں دشتِ غم میں آہوے صیّاد دیدہ ہوں
qqq

مضمون نگار: شمس الحق عثمانی

غالب کی تمام غزلیں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں
http://rekhta.org/Poet/Ghalib_Mirza_Asadullah_Khan

No comments:

Post a Comment